🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. باب سنن الوضوء - ذكر الاستحباب أن يكون مسح الرأس للمتوضئ بماء جديد غير فضل يده
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ وضو کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ سر کا مسح نئے پانی سے ہو، نہ کہ ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1085
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا، وَالأُخْرَى مِثْلَهَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدِهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا" .
حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرہ مبارک کو تین مرتبہ دھویا، اپنے دائیں بازو کو تین مرتبہ دھویا اور دوسرے کو بھی اسی کی مانند (تین مرتبہ) دھویا، اپنے سر کا مسح ہاتھ پر موجود پانی کے علاوہ اضافی پانی لیے بغیر کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں اچھی طرح صاف کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1085]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 236، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 35، والدارمي فى (مسنده) برقم: 736، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1144، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16703» «رقم طبعة با وزير 1082»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (111): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں