🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

86. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر المصرح برجوع طلق بن علي إلى بلده بعد قدمته تلك
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ طلق بن علی اپنی اس آمد کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1123
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ الْحَنَفِيُّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةً وَفْدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بَيْعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طُهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ وَتَمَضْمَضَ، وَصَبَّ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ:" اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ، فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ:" فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لا يَزِيدُهُ إِلا طِيبًا". فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الإِدَاوَةِ أَيُّنَا يَحْمِلُهَا، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْبًا لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ، فَنَادَيْنَا بِالصَّلاةِ، فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ، ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ طَلْقَ بْنَ عَلِيٍّ رَجَعَ إِلَى بَلَدِهِ بَعْدَ الْقِدْمَةِ الَّتِي ذَكَرْنَا وَقْتَهَا، ثُمَّ لا يُعْلَمُ لَهُ رُجُوعٌ إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ ذَلِكَ. فَمَنِ ادَّعَى رُجُوعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَ بِسُنَّةٍ مُصَرِّحَةٍ، وَلا سَبِيلَ لَهُ إِلَى ذَلِكَ.
قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، پانچ افراد کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اور ایک شخص کا تعلق بنو ضبیعہ بن ربیعہ سے تھا۔ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا اور آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے وضو کا بچا ہوا پانی ہمیں عنایت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، آپ نے اس کے ذریعے وضو کیا، کلی کی، پھر آپ نے ہمارے لیے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس پانی کو لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں جاؤ تو گرجا گھر کو توڑ دینا اور اس جگہ پر اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ پر مسجد بنا دینا۔“ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارا علاقہ بہت دور ہے، پانی خشک ہو جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اس میں پانی ملاتے رہنا، اس کے نتیجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے، تو ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ پانی کے اس برتن کو کون اٹھائے گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کر دی۔ ہم لوگ اسے لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ اپنے علاقے میں آئے۔ ہم نے وہی کام کیا جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہدایت کی تھی۔ اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا، جب ہم نے نماز کے لیے اذان دی تو راہب نے کہا: یہ حق کی دعوت ہے، پھر وہ بھاگ گیا، اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے، سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے بعد اپنے علاقے واپس چلے گئے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے، جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کے بارے میں پتا نہیں چل سکا۔ جو شخص ان کے دوبارہ مدینہ منورہ میں آنے کا دعویٰ کرتا ہے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ کوئی ایسی حدیث بیان کرے جس میں اس بات کی صراحت موجود ہو اور یہ حدیث اسے مل نہیں سکتی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1123]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1123، 1602، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 700، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 782، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16551، 24451، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 4905، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8241» «رقم طبعة با وزير 1120»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2582)، وانظر التعليق المتقدم. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، وتقدم مختصراً برقم (1119).
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں