🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

106. باب نواقض الوضوء - ذكر البيان بأن الأكل الذي وصفناه من المصطفى صلى الله عليه وسلم اللحم الذي لم يتوضأ منه كان ذلك لحم شاة لا لحم إبل
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ کھانے سے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گوشت کھایا اور اس سے وضو نہیں کیا، وہ بکری کا گوشت تھا، نہ کہ اونٹ کا گوشت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1145
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ، فَبَسَطَتْ لَهُ عِنْدَ صَوْرٍ، وَرَشَّتْ حَوْلَهُ، وَذَبَحَتْ شَاةً فَصَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، فَأَكَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ لِصَلاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّى، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ فَضَلَتْ عِنْدَنَا مِنْ شَاتِنَا فَضْلَةٌ، فَهَلْ لَكَ فِي الْعَشَاءِ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری خاتون کے ہاں تشریف لائے، انہوں نے کھجوروں کے درختوں کے جھنڈ کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھونا بچھا دیا اور اس کے ارد گرد پانی چھڑک دیا، انہوں نے ایک بکری ذبح کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم نے بھی کھا لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا اور نماز ادا کی۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے ہاں اس بکری کے گوشت میں سے کچھ کھانا بچ گیا ہے، کیا آپ اسے کھانا پسند کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا اور ہم نے بھی اسے کھا لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5457، ومالك فى (الموطأ) برقم:، وابن الجارود فى "المنتقى"، 26، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 43، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1130، 1132، 1134، 1135، 1136، 1137، 1138، 1139، 1145، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4686، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 185، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 191، 192، والترمذي فى (جامعه) برقم: 80، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 489، 3282، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14483» «رقم طبعة با وزير 1142»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (1127). تنبيه!! رقم (1127) = (1130) من «طبعة المؤسسة». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، شيبان بن أبي شيبة من رجال مسلم، وباقي رجاله ثقات من رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں