صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
159. باب الغسل - ذكر البيان بأن المرأة الحائض إنما أمرت بتعقيب الغسل بالفرصة الممسكة دون غيرها
غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ حائضہ عورت کو غسل کے بعد ممسکہ فرصہ استعمال کرنے کا حکم دیا گیا، نہ کہ اس کے علاوہ
حدیث نمبر: 1200
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، خَبَّرَتْنِي أُمِّي ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ؟ قَالَ: " تَأْخُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَتَوَضَّئِينَ بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّئِينَ بِهَا". قَالَتْ: كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَوَضَّئِينَ بِهَا". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ، فَجَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَعَلَّمْتُهَا .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اس کے بعد غسل کیسے کرے گی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم مشک لگا ہوا روئی کا ٹکڑا لو اور اس کے ذریعے وضو کرو۔“ اس نے عرض کی: میں اس کے ذریعے کیسے وضو کروں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے ذریعے وضو کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کا پتہ چل گیا تھا، اس لیے میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور اسے طریقہ بتایا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1200]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 314، 315، 7357، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 332، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1199، 1200، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 251، وأبو داود فى (سننه) برقم: 314، 4100، والدارمي فى (مسنده) برقم: 800، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 642،وأحمد فى (مسنده) برقم: 25546» «رقم طبعة با وزير 1197»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
فضيل بن سليمان هو النميري، قال الحافظ في «التقريب»: صدوق له خطأ كثير، ومع ذلك فقد روى له الستة، وباقي رجاله ثقات.