🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

231. باب الأوعية - ذكر الخبر المصرح بأن الأمر بهذه الأشياء أمر باستعمالها بالليل دون النهار
برتنوں کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ ان چیزوں کا حکم رات کو استعمال کرنے کا ہے، نہ کہ دن کو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1274
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " أَوْكُوا الأَسْقِيَةَ، وَغَلِّقُوا الأَبْوَابَ إِذَا رَقَدْتُمْ بِاللَّيْلِ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْبَابَ مُغْلَقًا دَخَلَ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ السِّقَاءَ مُوكًى شَرِبَ مِنْهُ، وَإِنْ وَجَدَ الْبَابَ مُغْلَقًا وَالسِّقَاءَ مُوكًى لَمْ يَحْلِلْ وِكَاءً وَلَمْ يَفْتَحْ بَابًا مُغْلَقًا، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ لإِنَائِهِ الَّذِي فِيهِ شَرَابُهُ مَا يُخَمِّرُهُ، فَلْيَعْرِضْ عَلَيْهِ عُودًا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے تھے: ”مشکیزوں کا منہ بند کر دو جب تم رات کے وقت سونے لگو، اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دو، کیونکہ شیطان آتا ہے، اگر اسے دروازہ بند نہیں ملتا تو وہ اندر آ جاتا ہے، اور اگر اسے مشکیزے کا منہ بند نہیں ملتا تو وہ اس میں سے پی لیتا ہے، لیکن اگر اسے دروازہ بند ملتا ہے اور مشکیزے کا منہ بند ملتا ہے، تو وہ مشکیزے کے بند منہ کو کھول نہیں سکتا اور بند دروازے کو کھول نہیں سکتا اور اگر کسی شخص کو اپنے اس برتن جس میں اس کا مشروب موجود ہے اسے ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملتی، تو وہ اس پر لکڑی ہی رکھ دے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3280، 3304، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2012، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7307، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2604، 3731، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1812، 2766، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 360، 3268، 3410،وأحمد فى (مسنده) برقم: 14334» «رقم طبعة با وزير 1271»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «التعليق على صحيح ابن خزيمة» (1/ 69). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں