صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
256. باب التيمم
تیمم کا بیان -
حدیث نمبر: 1300
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، فَأَقَامَ مَعَهُ النَّاسُ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ نَاسٌ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، فَقَالُوا: أَلا تَرَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسَ وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ؟ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ، " فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ، فَتَيَمَّمُوا" . قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هَذَا بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ! قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ".
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ہم ایک سفر پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم «بَيْدَاءَ» یا «ذَاتِ الْجَيْشِ» (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار گر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، وہاں آس پاس پانی نہیں تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ کچھ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا آپ نے دیکھا ہے، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ہمراہ لوگوں کو ٹھہرنے پر مجبور کر دیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما (کے پاس) آئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے زانوں پر رکھ کر سو رہے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو رکنے پر مجبور کیا ہے حالانکہ یہاں آس پاس پانی نہیں ہے، اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں ہے۔“ (سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ پر ناراضگی کا اظہار کیا اور جو اللہ کو منظور تھا وہ کہا، وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ میرے پہلو پر مارتے رہے، لیکن میں نے حرکت اس لیے نہیں کی، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (میرے زانوں پر سر رکھ کر آرام فرما رہے تھے)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، یہاں تک کہ صبح کا وقت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ نے تیمم سے متعلق آیت نازل کر دی تو لوگوں نے تیمم کر لیا۔ اس وقت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ، جو نقیبوں میں سے ایک تھے، انہوں نے یہ کہا: ”اے ابوبکر کی آل! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی، تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار بھی مل گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 334، 336، 3672، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 367، ومالك فى (الموطأ) برقم: 169، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 261، 262، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1300، 1317، 1709، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 309، وأبو داود فى (سننه) برقم: 317، والدارمي فى (مسنده) برقم: 773، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 568، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24937، والحميدي فى (مسنده) برقم: 165» «رقم طبعة با وزير 1297»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (335 و 337): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.