🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

269. باب التيمم - ذكر الإباحة للجنب إذا خاف التلف على نفسه من البرد الشديد عند الاغتسال أن يصلي بالوضوء أو التيمم دون الاغتسال
تیمم کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنب کے لیے جائز ہے کہ اگر شدید سردی کی وجہ سے غسل سے اسے اپنی جان کے ضیاع کا خوف ہو تو وہ وضو یا تیمم سے نماز پڑھ لے بغیر غسل کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ، وَأَنَّهُ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ، فَخَرَجَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ، فَغَسَلَ مَغَابَتَهُ، وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، فَلَمْا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: " كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَأَصْحَابَهُ؟"، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَالَ: وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29، وَلَوِ اغْتَسَلْتُ مُتُّ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو .
ابوقیس، جو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی ایک مہم پر تھے۔ لوگوں کو اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس طرح کی سردی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: گزشتہ رات مجھے احتلام ہو گیا تھا، تو انہوں نے اپنی شرم گاہ کو دھویا اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی۔ جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ تو لوگوں نے ان کی تعریف کی اور یہ بات کہی: یا رسول اللہ! انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھا دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا اور جس سردی کا سامنا کرنا پڑا اس کے بارے میں بتایا: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو“ اگر میں غسل کر لیتا تو میں مر جاتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی اس بات پر ہنس پڑے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1315، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 633، 634، وأبو داود فى (سننه) برقم: 334، والدارقطني فى (سننه) برقم: 681، 682، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18091» «رقم طبعة با وزير 1312»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (154)، و «صحيح أبي داود» (361). * [وَصَحَابته] قال الشيخ: في الأصل: (وأصحابه). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں