🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

334. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن سليمان بن يسار لم يسمع هذا الخبر من عائشة
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ سلیمان بن یسار نے یہ خبر عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ:" كُنْتُ أَغْسِلُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ، وَإِنَّهُ لِيُرَى أَثَرُ الْبُقَعِ فِي ثَوْبِهِ" ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت (یعنی منی) کو دھو دیتی تھی، آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے، تو پانی کا نشان آپ کے کپڑے پر موجود ہوتا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کو اس وقت دھوتی تھیں جب وہ تر ہوتی تھی کیونکہ اس صورت میں آدمی کو زیادہ پاکیزگی محسوس ہوتی ہے اور جب وہ خشک ہوتی تھی، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اسے کھرچ دیتی تھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز ادا کر لیتے تھے۔ ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں اور ہم اس قول کو اختیار کرتے ہیں کہ جب منی تر ہو گی، ذہن کے اطمینان کے لیے اس کو دھو لیں گے اس وجہ سے نہیں کہ وہ ناپاک ہے اور جب منی خشک ہو تو سنت کی پیروی کرتے ہوئے اسے کھرچنے پر اکتفا کیا جائے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1382]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 229، 230، 231، 232، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 288، وابن الجارود فى "المنتقى"، 152، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 287، 288، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1379، 1380، 1381، 1382، 2332، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 294،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 371، 372، 373، والترمذي فى (جامعه) برقم: 116، 117، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 536، 537، 538، 539، والدارقطني فى (سننه) برقم: 449، 450، 451، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24698» «رقم طبعة با وزير 1379»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں