🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

342. باب النجاسة وتطهيرها - ذكر خبر يصرح بأن إباحة المصطفى صلى الله عليه وسلم للعرنيين في شرب أبوال الإبل لم يكن للتداوي
نجاست اور اس کے پاک کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرنیین کو اونٹ کا پیشاب پینے کی اجازت علاج کے لیے نہیں دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمْةَ : اشْتَكَتِ ابْنَةٌ لِي، فَنَبَذْتُ لَهَا فِي كُوزٍ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَغْلِي، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي اشْتَكَتْ فَنَبَذْنَا لَهَا هَذَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِي حَرَامٍ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میری ایک بیٹی بیمار ہو گئی، میں نے اس کے لیے ایک کوزے میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو اس میں جوش آ چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: میری ایک بیٹی بیمار ہے، ہم نے اس کے لیے نبیذ تیار کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حرام میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1391، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19741، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 6966، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2500، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 749» «رقم طبعة با وزير 1388»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن لغيره - «غاية المرام» (30 و 66).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حسان بن مخارق: روى عنه اثنان، وترجمه البخاري 3/ 33، وابن أبي حاتم 3/ 235، فلم يذكرا فيه جرجا ولا تعديلا. وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 163، وباقي رجاله رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں