🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن تارك الصلاة حتى خرج وقتها متعمدا لا يكفر به كفرا يخرجه عن الملة
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز کو اس کے وقت کے نکلنے تک جان بوجھ کر ترک کرنے والا اس سے کفر نہیں کرتا جو اسے ملت سے نکال دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1455
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ:" أَخْبَرَ ابْنُ عُمَرَ بِوَجَعِ امْرَأَتِهِ فِي السَّفَرِ، فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، فَقِيلَ: الصَّلاةَ، فَسَكَتَ، وَأَخَّرَهَا بَعْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ حَتَّى ذَهَبَ هَوِيٌّ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ" ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ، أَوْ حَزَبَهُ أَمَرٌ.
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سفر کے دوران اپنی بیوی کی بیماری کے بارے میں بتایا گیا، تو انہوں نے مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیا۔ ان سے کہا گیا: نماز کا وقت ہو گیا ہے، تو وہ خاموش رہے۔ انہوں نے اس نماز کو شفق رخصت ہو جانے کے بعد تک مؤخر کیا یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا، پھر وہ سواری سے نیچے اترے اور انہوں نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کی، پھر یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کیا کرتے تھے جب آپ کو تیزی سے سفر کرنا مطلوب ہوتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1091، 1106، 1109، 1805، 3000، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 703، ومالك فى (الموطأ) برقم: 479، وابن الجارود فى "المنتقى"، 250، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 964، 965، 970، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1455، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1207، 1212، والترمذي فى (جامعه) برقم: 555، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1458، 1460، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4558، والحميدي فى (مسنده) برقم: 628، 697» «رقم طبعة با وزير 1453»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1037 و 1038).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں