🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب الوعيد على ترك الصلاة - ذكر خبر سادس يدل على أن تارك الصلاة متعمدا من غير عذر لا يوجب عليه ذلك إطلاق الكفر الذي يخرجه عن ملة الإسلام به
نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - چھٹی خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر عذر کے جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا اس سے کفر کا اطلاق نہیں ہوتا جو اسے ملت اسلام سے نکال دے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1460
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي إِطْلاقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّفْرِيطَ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى دَخَلَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ بِفِعْلِهِ ذَلِكَ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ، لَمْ يُطْلِقْ عَلَيْهِ اسْمُ التَّأْخِيرِ وَالتَّقْصِيرِ دُونَ إِطْلاقِ الْكُفْرِ".
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: نیند میں تفریط نہیں ہے تفریط اس شخص کے لئے ہے، جو اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک دوسری نماز کا وقت نہیں آ جاتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ تفریط اس شخص کیلئے استعمال کیا ہے، جو نماز کو ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایسا کرنے والا شخص کافر نہیں ہو گا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کیلئے کفر کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے تاخیر یا کوتاہی کا لفظ استعمال نہ کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، 1579، 2649، 5338، 6901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2181، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، 3434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982» «رقم طبعة با وزير 1458»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 294)، «صحيح أبي داود» (465).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الله: هو ابن المبارك.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں