صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
79. باب مواقيت الصلاة - ذكر العلة التي من أجلها كان صلى الله عليه وسلم يؤخر العشاء
نماز کے اوقات کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو مؤخر کرتے تھے
حدیث نمبر: 1528
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ " يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَهَا وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا، وَكَانَ النَّاسُ إِذَا جَاءُوا عَجَّلَهَا، وَإِذَا لَمْ يَجِيئُوا أَخَّرَهَا، وَكَانُوا يُصَلُّونَ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ" .
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: آپ ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کرتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ابھی روشن ہوتا تھا اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشاء کی نماز کو آپ بعض اوقات جلدی ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات تاخیر سے ادا کرتے تھے، جب لوگ پہلے آ جاتے تھے، تو آپ اسے جلدی ادا کر لیتے تھے اور جب لوگ (پہلے) نہیں آتے تھے، تو آپ اسے تاخیر سے ادا کرتے تھے، جبکہ آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 560، 565، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 646، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 353، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1472، 1528، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 700، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 503، وأبو داود فى (سننه) برقم: 397، والترمذي فى (جامعه) برقم: 150، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1009، 1010، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14467» «رقم طبعة با وزير 1526»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (245): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري، علي بن المديني: هو علي بن عبد الله بن جعفر بن نجيح السعدي مولاهم، ثقة، ثبت، إمام، أعلم أهل عصره بالحديث وعلله، خرج له البخاري، وباقي السند على شرطهما، سعد بن إبراهيم: هو سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري، ومحمد بن عمرو بن حسن: هو محمد بن عمرو بن الحسن بن علي بن أبي طالب.