صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
111. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه الصلاة لم تكن صلاة الصبح
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ صلاة الصبح نہیں تھی
حدیث نمبر: 1565
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَلَمْا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنْا؟"، قَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ:" فَلا تَفْعَلا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ" ، قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ فَلا تَفْعَلا لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ.
جابر بن یزید عامری اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے حج (یعنی حجۃ الوداع) میں شریک ہوا، میں نے آپ کی اقتدا میں صبح کی نماز منی میں موجود مسجدِ خیف میں ادا کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے جنہوں نے (باجماعت) نماز ادا نہیں کی تھی، ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو وہ دونوں کانپ رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا وجہ ہے کہ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟“ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم جماعت کے ساتھ والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو، یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔“ شیخ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم ایسا نہ کرو“ یہ لفظ ممانعت کے ہیں لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر کوئی حکم دینا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1279، 1638، 1713، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1564، 1565، 2395، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 899، وأبو داود فى (سننه) برقم: 575، 614، والترمذي فى (جامعه) برقم: 219، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1532، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17746» «رقم طبعة با وزير 1563»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.