🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

125. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر أوهم غير المتبحر في صناعة العلم أن الصلاة الفائتة لا تؤدى عند طلوع الشمس حتى تبيض
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ فوت شدہ نماز سورج کے طلوع ہونے پر جب تک روشن نہ ہو، ادا نہیں کی جاتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاةِ"، فَقَالَ بِلالٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَاسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ:" يَا بِلالُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ؟"، قَالَ: أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مَا نِمْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ:" قُمْ فَأَذِّنِ النَّاسَ بِالصَّلاةِ"، فَلَمْا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ، قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ ہمیں پڑاؤ کی اجازت دیں (تو مہربانی ہو گی)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ اندیشہ ہے، تم لوگ نماز کے وقت سوئے رہ جاؤ گے۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں آپ لوگوں کو بیدار کر دوں گا، پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیدار ہوئے جب سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! تم نے جو کہا تھا وہ کہاں گیا؟“ انہوں نے عرض کی: مجھ پر بھی نیند طاری ہو گئی تھی، اور یہ ایسی نیند تھی کہ اس طرح کی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اٹھو اور لوگوں کے درمیان نماز کا اعلان کرو۔“ جب سورج نکل آیا، روشن ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1579]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 595، 7471، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 681، وابن الجارود فى "المنتقى"، 171، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 409، 410، 989، 990، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1460، 1579، 2649، 5338، 6901، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 614، وأبو داود فى (سننه) برقم: 437، والترمذي فى (جامعه) برقم: 177، 1894، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2181، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 698، 3434، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1442، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22982» «رقم طبعة با وزير 1577»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (465 و 466): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن سعيد الجوهري: ثقة، حافظ، تكلم فيه بلا حجة، وهو من رجال مسلم، وباقي السند رجاله رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں