🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

153. باب المساجد - ذكر نظر الله جل وعلا بالرأفة والرحمة إلى الموطن المكان في المسجد للخير والصلاة
مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا رحمت اور شفقت سے اس مقام کی طرف دیکھتا ہے جو مسجد میں خیر اور نماز کے لیے مختص ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يُوَطِّنُ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ لِلصَّلاةِ، أَوْ لِذِكْرِ اللَّهِ، إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ، إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ غَائِبُهُمْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْعَرَبُ إِذَا أَرَادَتْ وَصْفَ شَيْئَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ عَلَى سَبِيلِ التَّشْبِيهِ أَطَلَقَتْهُمَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا، وَإِنْ كَانَ مَعْنَاهُمَا فِي الْحَقِيقَةِ غَيْرَ سِيَّيْنِ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ" كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالَمْاءُ". فَأَطْلَقَهُمَا جَمِيعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا عِنْدَ التَّثْنِيَةِ، وَهَذَا كَمَا قِيلَ: عَدْلُ الْعُمَرَيْنِ، فَأُطْلِقَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا، فَتَبَشْبَشَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِعَبْدِهِ الْمَوْطِنَ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ لِلصَّلاةِ وَالْخَيْرِ، إِنَّمَا هُوَ نَظَرَهُ إِلَيْهِ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَحَبَّةِ لِذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْكِي عَنِ اللَّهِ تَعَالَى:" مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا"، يُرِيدُ بِهِ: مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا بِالطَّاعَةِ وَوَسَائِلِ الْخَيْرِ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوْضِعَهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ يَسَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نماز ادا کرنے کے لیے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے مسجد کو وطن بنا لیتا ہے (یعنی وہاں ٹھہرا رہتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس شخص پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا خوش کسی غائب شخص کے واپس آنے پر اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب جب ایک دوسرے سے مختلف چیزوں کی تشبیہ کے طور پر صفت بیان کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لفظ کے ہمراہ ان دونوں کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں کا معنی ایک دوسرے سے مختلف ہو جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی، تو یہاں انہوں نے ان دونوں کے لیے ان دونوں میں سے ایک لفظ استعمال کیا ہے، جبکہ وہ دو چیزیں ہیں اور یہ اسی طرح ہوگا، جس طرح یہ دو عمروں کے برابر ہے، تو یہاں ان دونوں میں سے ایک کے لفظ کے ذریعے ان دونوں کو استعمال کیا گیا ہے، تو آدمی کا نماز اور بھلائی کے لیے مسجد میں اپنی جگہ کو مقرر کر لینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا بندے سے خوش ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی، رحمت اور محبت کے ذریعے اس کی طرف نظر کرتا ہے، جو اس کے فعل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مانند ہے، جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے طور پر نقل کیا ہے: ”جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ایک بالشت اطاعت اور بھلائی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، تو میں مہربانی اور رحمت کے ہمراہ ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں، اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جنہیں ہم عنقریب اس کے مخصوص مقام سے متعلق باب میں نقل کریں گے، اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آسان کیا اور اسے سہل فرمایا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 359، 1503، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1607، 2278، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 776، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 800، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8465» «رقم طبعة با وزير 1605»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 126). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط الشيخين، عثمان بن عمر: هو ابن فارس العبدي، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث القرشي العامري المدني.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں