صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
213. باب الأذان - ذكر إثبات الغفران للمؤذن بأذانه
اذان کا بیان - مؤذن کے لیے اس کی اذان کی وجہ سے مغفرت کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 1672
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، فَأَرْشَدَ اللَّهُ الأَئِمَّةَ، وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِينَ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْفَرْقُ بَيْنَ الْعَفْوِ وَالْغُفْرَانِ، أَنَّ الْعَفْوَ قَدْ يَكُونُ مِنَ الرَّبِّ جَلَّ وَعَلا لَمْنِ اسْتَوْجَبَ النَّارَ مِنْ عِبَادِهِ، قَبْلَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُمْ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُ، وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ بَعْدَ تَعْذِيبِهِ إِيَّاهُمُ الشَّيْءَ الْيَسِيرَ، ثُمَّ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِمْ جَلَّ وَعَلا بِالْعَفْوِ، إِمَّا مِنْ حَيْثُ يُرِيدُ أَنْ يَتَفَضَّلَ، وَإِمَّا بِشَفَاعَةِ شَافِعٍ، وَالْغُفْرَانُ هُوَ الرِّضَا نَفْسُهُ، وَلا يَكُونُ الْغُفْرَانُ مِنْهُ جَلَّ وَعَلا لَمْنِ اسْتَوْجَبَ النِّيرَانَ بِفَضْلِهِ، إِلا وَهُوَ يَتَفَضَّلُ عَلَيْهِمْ بِأَنْ لا يُدْخِلَهُمْ إِيَّاهَا بِحَيْلِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: «اَلْإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِيْنَ» ”امام ضامن ہے، اور مؤذن امین ہے، اے اللہ! ائمہ کی رہنمائی فرما اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عفو اور غفران میں فرق ہے؛ عفو پروردگار کی طرف سے ایسے شخص کے لیے بھی ہوتا ہے کہ اس کے جس بندے پر جہنم لازم ہو چکی ہو، تو یہ اسے عذاب دینے سے پہلے بھی ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچا کر رکھے۔ اور بعض اوقات یہ اسے عذاب دینے کے کچھ عرصہ بعد بھی ہو سکتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر فضل کرے گا کہ انہیں معاف کر دے گا، یا تو یہ اپنے فضل کی وجہ سے کرے گا یا کسی شفاعت کرنے والے کی وجہ سے کرے گا، اور غفران سے مراد اس کی ذات کا راضی ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لیے مغفرت ہوگی جس پر جہنم لازم ہو چکی ہو اور یہ اس کے فضل کی وجہ سے ہی ہوگی؛ ماسوائے اس کے کہ وہ ان پر اپنا فضل کرتے ہوئے اپنی قوت کے ساتھ انہیں اس میں داخل ہی نہ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1528، 1529، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1672، وأبو داود فى (سننه) برقم: 517، والترمذي فى (جامعه) برقم: 207، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2052، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7290» «رقم طبعة با وزير 1670»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح «الإرواء» (1/ 231 - 235/ 217)، «صحيح أبي داود» (530 - 531)، «الروض» (1076 - 1079). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم