صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
274. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر تعاقب الملائكة عند صلاة العصر والغداة
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - عصر اور صبح کی نماز کے وقت فرشتوں کے تعاقب کا ذکر
حدیث نمبر: 1737
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ الْفَقِيهُ ، بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلائِكَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَلائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ، وَهُوَ أَعْلَمُ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ مَلائِكَةَ اللَّيْلِ إِنَّمَا تَنْزِلُ وَالنَّاسُ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ، وَحِينَئِذٍ تَصْعَدُ مَلائِكَةُ النَّهَارِ، ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَلائِكَةَ اللَّيْلِ تَنْزِلُ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں۔ وہ فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھے ہوتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے درمیان رات بسر کی ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، تو (اللہ تعالیٰ) ان سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ زیادہ علم رکھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں: ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا ہے وہ نماز ادا کر رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے تھے، تو وہ اس وقت بھی نماز ادا کر رہے تھے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ رات کے فرشتے اس وقت نیچے اترتے ہیں جب لوگ عصر کی نماز ادا کر رہے ہوں، اور اسی وقت میں دن کے فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں، یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: فرشتے سورج غروب ہونے کے بعد نیچے اترتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 555، 3223، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 632، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 321، 322، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1736، 1737، 2061، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 484 والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2217، 2218، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7608» «رقم طبعة با وزير 1735»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1733). تنبيه!! رقم (1733) = (1736) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما