🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

302. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن على المرء التكبير في كل خفض ورفع من صلاته خلا رفعه رأسه من الركوع
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر ہر اٹھانے اور جھکنے میں تکبیر کہنا لازم ہے سوائے رکوع سے سر اٹھانے کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ، كَانَ: " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدِ. ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرِ حِينَ يَقُومِ بَيْنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ، ثُمَّ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاتَهُ" ، فَإِذَا قَضَى صَلاتَهُ وَسَلَّمَ، أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان نے مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، تو جب وہ فرض نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع میں جانے لگے تو انہوں نے تکبیر کہی اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہا، اور پھر جب وہ سجدے میں جانے کے لیے جھکے تو انہوں نے تکبیر کہی، وہ تشہد کے بعد دو رکعت ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوئے، تو انہوں نے تکبیر کہی، انہوں نے اسی طرح کیا یہاں تک کہ اپنی نماز کو مکمل کر لیا۔ جب انہوں نے اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرا تو انہوں نے اہل مسجد کی طرف رخ پھیرا اور کہا: ”اس ذات کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میں تم سب کے مقابلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں۔“ سالم بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے، البتہ وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی آواز کو پست رکھتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 785، 789، 795، 803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 392، وابن الجارود فى "المنتقى"، 205، 214، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 499، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1766، 1767، 1797، 1801، 1806، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 817، وأبو داود فى (سننه) برقم: 738، 836، 934، والترمذي فى (جامعه) برقم: 254، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1283 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 853، 860، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1136، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6272» «رقم طبعة با وزير 1764»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، عبد الله: هو ابن المبارك، وهو مطول ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں