🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

320. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر الدال على أن قوله صلى الله عليه وسلم فلا تفعلوا إلا بأم الكتاب لم يرد به الزجر عن قراءة ما وراء فاتحة الكتاب
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فلا تفعلوا إلا بأم الكتاب" سے سورۃ الفاتحہ کے علاوہ قراءت سے منع کرنے کی نیت نہیں تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ مَكْحُولٍ: فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِأُمِّ الْكِتَابِ، لَفْظَةُ زَجَرَ مُرَادٌ بِهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ، وَقَوْلُهُ: فَصَاعِدًا، تَفَرَّدَ بِهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، دُونَ أَصْحَابِهِ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورۃ فاتحہ اور مزید (کسی سورۃ) کی تلاوت نہیں کرتا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) مکحول کے حوالے سے منقول روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان تم ایسا نہ کرو، (البتہ سورہ فاتحہ کا حکم مختلف ہے) یہ الفاظ ممانعت کے ہیں، لیکن مراد ابتداء میں نئے سرے سے حکم دینا ہے۔ روایت کے لفظ «فَصَاعِدًا» کو زہری کے حوالے سے روایت کرنے میں معمر منفرد ہے، زہری کے دیگر شاگردوں نے یہ لفظ نقل نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 756، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1782، 1785، 1786، 1792، 1793، 1848، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 876، وأبو داود فى (سننه) برقم: 822، 823، 824، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 247، 311، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1278، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 837، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1213، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23111، والحميدي فى (مسنده) برقم: 390» «رقم طبعة با وزير 1783»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر (1779). تنبيه!! رقم (1779) = (1782) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري: تقدم غير مرة أنه يهم كثيرا، لكنه متابع عليه، وباقي رجاله رجال الشيخين.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں