🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

375. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن قراءة قل أعوذ برب الفلق من أحب ما يقرأ العبد في صلاته إلى الله جل وعلا
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ سورۃ الفلق کی قراءت بندے کی وہ قراءت ہے جو اللہ جل وعلا کو اس کی نماز میں پسند ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1842
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَذَكَرَ ابْنَ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ بْنِ عِمْرَانَ ،، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: تَبِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ، فَجَعَلْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي إِمَّا مِنْ سُورَةِ هُودٍ، وَإِمَّا مِنْ سُورَةِ يُوسُفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ، وَلا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ أَنْ تَقْرَأَ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ سورة الفلق آية 1، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تَفُوتَكَ فِي صَلاةٍ فَافْعَلْ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَسْلَمُ بْنُ عِمْرَانَ، كُنْيَتُهُ: أَبُو عِمْرَانَ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، مِنْ جُمْلَةِ تَابِعِيهَا.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم شریف پر رکھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے تلاوت سکھا دیجیے یا سورہ ہود کی یا سورۃ یوسف کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عقبہ بن عامر! تم ایسی کسی سورت کی تلاوت نہیں کرو گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورۃ الفلق سے زیادہ محبوب اور اس کی بارگاہ میں زیادہ پہنچنے والی ہو۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم ہر نماز میں اسے پڑھا کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسلم بن عمران کی کنیت ابوعمران ہے، یہ اہل مصر میں سے ہیں اور وہاں کے تابعین میں سے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 814، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 534، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 795، 1818، 1842، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 883، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 951، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1462، 1463، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2406، 2902، 3367، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17569» «رقم طبعة با وزير 1839»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 226).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، أسلم بن عمران: وثقه النسائي، والمؤلف، والعجلي، وباقي السند من رجال الشيخين غير حرملة، فإنه من رجال مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں