صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
383. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن هذا الكلام الأخير فانتهى الناس عن القراءة واتعظ المسلمون بذلك إنما هو قول الزهري لا من كلام أبي هريرة
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ آخری کلام کہ لوگوں نے قراءت ترک کر دی اور مسلمانوں نے اس سے عبرت حاصل کی، یہ زہری کا قول ہے نہ کہ ابو ہریرہ کا کلام
حدیث نمبر: 1851
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنا الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا؟". قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَانْتَهَى الْمُسْلِمُونَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَءُونَ مَعَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا خَبَرٌ مَشْهُورٌ لِلزُّهْرِيِّ مِنْ رِوَايَةِ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَهِمَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ - إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ - فَقَالَ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَعَلِمَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّهُ وَهِمَ، فَقَالَ: عَنْ مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ سَعِيدًا. وَأَمَّا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ، أَرَادَ بِهِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اتِّبَاعًا مِنْهُمْ لِزَجْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَفْعِ الصَّوْتِ وَالإِمَامُ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فِي قَوْلِهِ: مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں قرأت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دریافت فرمایا: ”کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ تلاوت کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی سوچ رہا تھا کہ کیا وجہ ہے، قرآن (کی تلاوت) میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے۔“ زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: مسلمان اس سے باز آ گئے اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تلاوت نہیں کیا کرتے تھے۔ امام ابو حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ روایت زہری سے منقول ہونے کے حوالے سے مشہور ہے جو ان کے اصحاب نے ابن اکیمہ کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اس میں امام اوزاعی رحمہ اللہ کو وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے، انہوں نے یہ کہا: یہ زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب سے منقول ہے، ولید بن مسلم یہ بات جانتے تھے کہ انہیں وہم ہوا ہے، اس لیے انہوں نے یہ کہا: یہ اس شخص کے حوالے سے منقول ہے جس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسے سنا ہے، انہوں نے سعید کا تذکرہ نہیں کیا، جہاں تک زہری کے اس قول کا تعلق ہے کہ ”لوگ قرأت کرنے سے باز آ گئے“ تو اس سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کی پیروی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بلند آواز میں تلاوت نہیں کی، جب امام بلند آواز میں قرأت کر رہا ہو، اس کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ہے: ”کیا وجہ ہے کہ قرآن میں میرے ساتھ تنازع کیا جا رہا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 286، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1843، 1849، 1850، 1851، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 918، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 993، وأبو داود فى (سننه) برقم: 826، 1/306، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 312، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 848، 849، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1265، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7390، والحميدي فى (مسنده) برقم: 983» «رقم طبعة با وزير 1848»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات، لكن فيه الوهم الذي سيبينه المؤلف بإثره.