صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
392. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي رفع اليدين عند إرادته الركوع وعند رفع رأسه منه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رکوع کے ارادے اور اس سے سر اٹھانے پر ہاتھ اٹھائے
حدیث نمبر: 1860
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ ، أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ حِينَ قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى، وَالرُّسْغِ، وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ، فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ، وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَعَقَدَ ثِنْتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ، فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا" ، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ، فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمْ جُلُّ الثِّيَابِ تَتَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ تَحْتَ الثِّيَابِ.
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں ضرور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز ادا کرتے ہیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائزہ لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور اپنے ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کانوں کے برابر لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دستِ مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا ہی بلند کیا (جتنا آغاز میں کیا تھا)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اتنا ہی دونوں ہاتھوں کو بلند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں کانوں کے مقابل رکھی تھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں زانو کو بچھا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بایاں ہاتھ اپنے بائیں زانو اور دائیں گھٹنے پر رکھا اور اپنی دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر ان کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر ایک انگلی کو بلند کیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حرکت دیتے ہوئے اس کے ہمراہ دعا مانگ رہے تھے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سردیوں کے موسم میں حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں نے سردیوں کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور وہ کپڑوں کے اندر ہی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہے ہیں (یعنی چادروں کے اندر ہی رفع یدین کر رہے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، 292،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143» «رقم طبعة با وزير 1857»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (717). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي رجاله رجال الصحيح، غير كليب بن شهاب، وهو صدوق روى له الأربعة، لكن جملة «فرأيته يحركها» شاذة، انفرد بها زائدة بن قدامة، دون من رواه من الثقات، وهم جمع يزيد عل العشرة.
حدیث نمبر: 1861
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ :" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا، وَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ. وَكَانَ لا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے، تو دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے کے لیے تکبیر کہتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے تھے، تو انہیں اس طرح سے بلند کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی“ «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے لیے مخصوص ہے“ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں (یعنی دو سجدوں کے درمیان) ایسا نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 390، ومالك فى (الموطأ) برقم: 245، وابن الجارود فى "المنتقى"، 196، 197، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 456،، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1861، 1864، 1868، 1877، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 875، وأبو داود فى (سننه) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى (جامعه) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 858، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2338، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1110، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4628، والحميدي فى (مسنده) برقم: 626» «رقم طبعة با وزير 1858»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (712): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.