صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
437. باب صفة الصلاة - ذكر استحباب الاجتهاد للمرء في الحمد لله بعد رفع رأسه من الركوع
نماز کے طریقہ کا بیان - رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اللہ کی حمد میں اجتهاد کے استحباب کا ذکر
حدیث نمبر: 1910
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، وَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ". قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعًا وَثَلاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ" .
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، تو آپ نے «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ» کہا: آپ کے پیچھے ایک شخص نے یہ کلمات پڑھے۔ ”اے ہمارے پروردگار! حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے۔ ایسی حمد جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے دریافت کیا۔ ابھی کلام کرنے والا شخص کون تھا۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول الله ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا، وہ ان کلمات کی طرف لپکے، ان میں سے کون پہلے ان کلمات کو نوٹ کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1910]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 799، ومالك فى (الموطأ) برقم: 718، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 614، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1910، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 824، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1061، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 653، وأبو داود فى (سننه) برقم: 770، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2653، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19301» «رقم طبعة با وزير 1907»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (744): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.