🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

533. فصل في القنوت - ذكر وصف تهليل آخر كان يهلل صلى الله عليه وسلم به ربه جل وعلا في عقب صلاته
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - ایک اور تہلیل کی کیفیت کا ذکر جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد اپنے رب جل وعلا کی تہلیل کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2008
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ: " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، لا نَعْبُدُ إِلا إِيَّاهُ، لَهُ الْمَنُّ، وَلَهُ النِّعْمَةُ، وَلَهُ الْفَضْلُ وَالثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ" . وَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ.
ابوزبیر مکی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے۔ حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ احسان اسی کا ہے نعمت اسی کی دی ہوئی ہے۔ فضل اسی کا ہے اچھی تعریف اسی کے لئے ہے۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ہم لوگ دین کو اسی کے لئے خالص کرتے ہیں اگرچہ یہ بات کافروں کو اچھی نہ لگے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ کلمات پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 594، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 740، 741، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2008، 2009، 2010، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1338، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1506، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16355» «رقم طبعة با وزير 2005»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1350): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں