🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

543. فصل في القنوت - ذكر كتبة الله جل وعلا لمن اقتصر من التسبيح والتحميد والتكبير في عقيب الصلوات المفروضات
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا فرض نمازوں کے بعد تسبیح، تحمید اور تکبیر پر اکتفا کرنے والے کے لیے لکھتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لا يُحْصِيهِمَا عَبْدٌ إِلا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرً وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ أَحَدُكُمْ فِي دُبُرُ كُلُّ صَلاةٍ عَشْرًا، وَيُحَمِّدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ. وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ يُسَبِّحُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَيُحَمِّدُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ؟". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ. قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ لا يُحْصِيهَا؟ قَالَ:" يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ، وَهُوَ فِي صَلاتِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ" . قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: كَانَ أَيُّوبُ حَدَّثَنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ، قَالَ لَنَا أَيُّوبُ، قَدْ قَدِمَ صَاحِبُ حَدِيثِ التَّسْبِيحِ، فَاذْهَبُوا فَاسْمَعُوهُ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”دو خصوصیات ایسی ہیں، جن کو جو بھی بندہ اختیار کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔ یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں۔ ایک یہ، کوئی شخص نماز کے بعد دس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، دس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور دس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ (ایک دن اور رات میں) زبان سے پڑھنے کے حساب سے ایک سو پچاس ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے، (دوسری عادت یہ ہے)، جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے، تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد اللہ“ اور چونتیس مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھے تو یہ زبان پر پڑھنے کے حساب سے ایک سو ہوں گے اور میزان میں ایک ہزار ہوں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص روزانہ دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہے؟“ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے انہیں شمار کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کوئی شخص ان دونوں پر کیوں عمل نہیں کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور وہ آدمی اس وقت نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ تم فلاں چیز کو یاد کرو، فلاں چیز کو یاد کرو اور جب آدمی سونے لگتا ہے اس وقت شیطان آدمی کے پاس آتا ہے اور اسے سلا دیتا ہے۔“ حماد بن زید رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایوب رحمہ اللہ نے عطاء بن سائب رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ حدیث ہمیں سنائی تھی۔ جب عطاء رحمہ اللہ بصرہ آئے تو ایوب رحمہ اللہ نے ہمیں کہا: کہ تسبیح والی اس حدیث کو نقل کرنے والے صاحب تشریف لے آئے ہیں، تم لوگ جاؤ اور ان سے اسے سن لو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 843، 2012، 2018، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2012، 2013، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1347، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1502، 5065، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3410، 3411، 3486، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 926، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6609، 7029، والحميدي فى (مسنده) برقم: 594» «رقم طبعة با وزير 2015»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (2009). تنبيه!! رقم (2009) = (2012) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، حماد بن زيد روى عن عطاء بن السائب قبل الاختلاط.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں