صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
619. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر البيان بأن هاتين الصلاتين أثقل الصلاة على المنافقين
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ دونوں نمازیں (عشاء اور صبح) منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری ہیں
حدیث نمبر: 2098
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاةُ الْعِشَاءِ وَصَلاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حِزَمُ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لا يَشْهَدُونَ الصَّلاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”منافقین کے لیے سب سے زیادہ بوجھل عشاء اور فجر کی نمازیں ہیں، اگر ان لوگوں کو پتا چل جائے کہ ان دونوں میں کتنا اجر اور ثواب ہے، تو وہ ان میں ضرور حاضر ہوں اگرچہ انہیں گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں نماز کے بارے میں حکم دوں، کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں اپنے ساتھ کچھ لوگ لے کر جاؤں جن کے ہمراہ لکڑیوں کے گٹھے ہوں اور ان لوگوں کی طرف جاؤں جو اس نماز میں شریک نہیں ہوئے اور ان کے گھروں کو ان سمیت آگ لگا دوں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 615، 644، 652، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 437، وابن الجارود فى "المنتقى"، 333، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 391، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1659، 2096، 2097، 2098، 2153، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 539، وأبو داود فى (سننه) برقم: 548، 549، والترمذي فى (جامعه) برقم: 217، 225، 226، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 791، 797، 998، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7346» «رقم طبعة با وزير 2095»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (486): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غير سلم بن جنادة، فلم يخرجا له ولا واحد منهما.