🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

623. باب فرض متابعة الإمام
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان -
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2102
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الأَيْمَنُ، فَحَضَرَتْ صَلاةٌ فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے اور آپ کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ، جب وہ (رکوع سے) اٹھے تو تم بھی اٹھو، اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ تعالیٰ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی پڑھے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں پڑھو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2102]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 378، 689، 732، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 411، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 977، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1908، 2102، 2103، 2108، 2111، 2113، 4277، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 793،، وأبو داود فى (سننه) برقم: 601، والترمذي فى (جامعه) برقم: 361، 690، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 876، 1238،وأحمد فى (مسنده) برقم: 12257» «رقم طبعة با وزير 2099»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2/ 118 / 394)، «صحيح أبي داود» (614): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں