صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
651. باب فرض متابعة الإمام - ذكر الإخبار عمن يستحق الإمامة للناس
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ لوگوں کی امامت کا استحقاق کسے ہے
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً، فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً، فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا، وَلا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلا يَقْعُدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ" .
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ قرأت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جو سنت کا زیادہ علم رکھتا ہو اگر وہ لوگ سنت کے حوالے سے برابر کی حیثیت رکھتے ہوں تو وہ شخص کرے جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حوالے سے بھی برابر ہوں تو وہ شخص کرے جس کی عمر زیادہ ہو اور کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی سربراہی کی جگہ پر اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے۔ البتہ اس کی اجازت ہو، تو حکم مختلف ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 673، وابن الجارود فى "المنتقى"، 338، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1507، 1516، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2127، 2133، 2144، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 893، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 779، والترمذي فى (جامعه) برقم: 235، 2772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 980، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1086، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17337» «رقم طبعة با وزير 2130»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (4/ 127).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، أبو خالد الأحمر: هو سليمان بن حيان، روى له جماعة، إلا أن البخاري روى له متابعة، وهو صدوق يخطئ، كما في «التقريب»، وقد تابعه أبو معاوية عند المؤلف برقم (2127) وغيره.