صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
683. باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يستحب للإمام أن يأمر المأمومين بتسوية الصفوف عند قيامهم إلى الصلاة
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ مأموموں کو نماز کے لیے کھڑے ہونے پر صفوں کو برابر کرنے کا حکم دے
حدیث نمبر: 2168
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالا: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الأَسْوَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: جِئْتُ فَقَعَدْتُ، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ خَبَّابٍ : جَاءَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَعَدَ مَكَانَكَ هَذَا، فَقَالَ: تَدْرُونَ مَا هَذَا الْعُودُ؟ قُلْنَا: لا. قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ أَخَذَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ:" اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ". ثُمَّ أَخَذَ بِيَسَارِهِ، ثُمَّ قَالَ:" اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ" . فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ فُقِدَ، فَالْتَمَسَهُ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ قَدْ أَخَذَهُ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَجَعَلُوهُ فِي مَسْجِدِهِمْ، فَانْتَزَعَهُ، فَأَعَادَهُ.
مصعب بن ثابت بیان کرتے ہیں: میں آیا اور آ کر بیٹھ گیا تو محمد بن مسلم نے بتایا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور تمہاری اس جگہ پر آ کر بیٹھ گئے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو، یہ لکڑی کیا ہے؟“ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے تھے، تو آپ اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اسے پکڑ لیتے تھے، پھر آپ متوجہ ہوتے اور ارشاد فرماتے: ”اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو“، پھر آپ اسے اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ لیتے اور ارشاد فرماتے: ”اعتدال اختیار کرو اور اپنی صفوں کو درست کرو“، پھر جب مسجد منہدم ہو گئی تو یہ لکڑی گم ہو گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تلاش کیا، تو انہیں یہ لکڑی مل گئی، یہ لکڑی بنو عمرو بن عوف نے حاصل کر لی تھی اور انہوں نے اسے اپنی مسجد میں رکھ لیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے وہاں سے واپس لا کر اس کی (پہلے والی مخصوص) جگہ پر رکھ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2168، 2170، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 896، وأبو داود فى (سننه) برقم: 669، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1108، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13876» «رقم طبعة با وزير 2165»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (102). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، مصعب بن ثابت: ضعفه أحمد، وابن معين، وأبو حاتم، والنسائي، وقال المؤلف في «المجروحين» 3/ 29: منكر الحديث، ممن ينفرد بالمناكير عن المشاهير، فلما كثر ذلك منه، استحق مجانبة حديثه، ولما ذكره في «الثقات» 7/ 478 قال: وقد أدخلته في الضعفاء، وهو ممن استخرت الله فيه، ومحمد بن مسلم بن السائب بن خباب المدني: روى عنه اثنان، وذكره المؤلف في «الثقات» 5/ 373.