صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
778. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الزهري سمع هذا الخبر من سعيد بن المسيب لا من أبي الأحوص
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ زہری نے یہ خبر سعید بن مسیب سے سنی، نہ کہ ابو الاحوص سے
حدیث نمبر: 2274
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا الأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، حَدَّثَهُ، فِي مَجْلِسِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ،، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلا يُحَرِّكِ الْحَصَى، أَوْ لا يَمَسَّ الْحَصَى" .
ابواحوص نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی محفل میں یہ بات بیان کی، اس وقت سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، ابواحوص نے بتایا کہ انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو رحمت اس کے مد مقابل ہوتی ہے، اس لیے (نماز ادا کرتے ہوئے) وہ کنکریوں کو حرکت نہ دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) کنکریوں کو چھوئے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2274]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 243، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 913، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2273، 2274، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1190، وأبو داود فى (سننه) برقم: 945، والترمذي فى (جامعه) برقم: 379، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1428، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1027، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21725، والحميدي فى (مسنده) برقم: 128» «رقم طبعة با وزير 2271»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
هو مكرر ما قبله.