🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

799. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر الخبر الدال على السبب الذي من أجله أباح صلى الله عليه وسلم الصلاة في الثوب الواحد
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس وجہ کی دلیل ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کی اجازت دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2298
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ ، وَأَيُّوبُ ، وَحَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، وَهِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ: " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟" . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: " إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ فَوَسِّعُوا، رَجُلٌ جَمَعَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، صَلَّى فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ" ، قَالَ هِشَامٌ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:" وَتُبَّانٍ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہوتے ہیں؟ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ آیا، تو انہوں نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کشادگی عطا کرے تو تم لوگ کشادگی کو اختیار کرو۔ آدمی اپنے کپڑے کو جمع کرے (یعنی دو مختلف چیزوں کو پہن کر نماز ادا کرے) وہ تہبند اور چادر میں، یا تہبند اور قمیض میں، یا تہبند اور قباء میں، یا شلوار اور چادر میں، یا شلوار اور قمیض میں، یا شلوار اور قباء میں نماز ادا کرے۔ ہشام نامی راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے پاجامے کا ذکر بھی کیا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2298]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 358، 365، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 515، الجارود فى "المنتقى"، 189، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 758، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1714، 2295، 2296، 2298، 2303، 2306، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 762، وأبو داود فى (سننه) برقم: 625، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1410، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1047، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1091، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7270» «رقم طبعة با وزير 2295»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» (5746): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الصحيح، أيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وهشام: هو ابن حسان القردوسي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں