صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
878. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن السترة تمنع من قطع الصلاة وإن مر وراءه الحمار والكلب والمرأة
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ سترہ نماز کو ٹوٹنے سے روکتی ہے، چاہے اس کے پیچھے گدھا، کتا، یا عورت گزرے
حدیث نمبر: 2380
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ، فَلا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
سیدنا موسیٰ بن طلحہ اپنے والد (سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے اور ہمارے سامنے سے چوپائے گزرا کرتے تھے، ہم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز تمہارے سامنے موجود ہو، تو پھر اس کے دوسری طرف سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 499، وابن الجارود فى "المنتقى"، 185، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 805، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2379، 2380، وأبو داود فى (سننه) برقم: 685، والترمذي فى (جامعه) برقم: 335، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 940، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1405» «رقم طبعة با وزير 2373»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن.