صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
882. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن أول هذا الخبر غير مرفوع
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اس خبر کا پہلا حصہ مرفوع نہیں ہے
حدیث نمبر: 2384
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: يَقْطَعُ صَلاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الأَسْوَدُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الأَسْوَدِ مِنَ الأَبْيَضِ مِنَ الأَحْمَرِ؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
عبداللہ بن صامت، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کے نماز پڑھنے کے دوران اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی جتنی کوئی چیز (سترے کے طور پر) نہ ہو، تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا (نمازی کے آگے سے گزر کر) اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ! سیاہ کتے کا کیا معاملہ ہے، سفید اور سرخ کیوں نہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 510، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 806، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2383، 2384، 2385، 2388، 2389، 2391، 2392، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 749، وأبو داود فى (سننه) برقم: 702، والترمذي فى (جامعه) برقم: 338، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 952، 3210، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21718» «رقم طبعة با وزير 2377»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم