🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

901. باب إعادة الصلاة - ذكر الأمر لمن صلى في بيته أو رحله ثم حضر مسجد الجماعة أن يصلي معهم ثانيا
نماز دوبارہ ادا کرنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ جو شخص اپنے گھر یا سواری میں نماز پڑھے پھر مسجد جماعت میں حاضر ہو تو وہ دوبارہ ان کے ساتھ نماز پڑھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدُّئِلِ يُقَالُ لَهُ: بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ، أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَكِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ" .
زید بن اسلم نے بنو دئل سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بسر بن محجن کے حوالے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ وہ ایک محفل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے تو سیدنا محجن رضی اللہ عنہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میں مسلمان ہوں) لیکن میں اپنے گھر میں نماز ادا کر چکا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو، اگرچہ تم پہلے نماز ادا کر چکے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2405]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 435، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2405، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 897، 898، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 856، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1541، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16655» «رقم طبعة با وزير 2398»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن لغيره - «صحيح أبي داود» (590 - 591). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط بسر بن محجن لا يُعرف حاله، وباقي رجاله ثقات، وهو في «الموطأ» 1/ 132.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں