🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

944. باب الوتر - ذكر الزجر عن أن يوتر المرء في الليلة الواحدة مرتين في أول الليل وآخره
وتر نماز کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ آدمی ایک رات میں دو بار وتر پڑھے، ایک رات کے شروع میں اور دوسرا آخر میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2449
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ ، قَالَ: زَارَنِي أَبِي يَوْمًا فِي رَمَضَانَ، فَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، فَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَأَوْتَرَ، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلا، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ" .
قیس بن طلق بیان کرتے ہیں: ایک دن میرے والد (طلق بن علی رضی اللہ عنہ) رمضان کے مہینے میں مجھ سے ملنے کے لیے آئے، وہ شام تک ہمارے ہاں رہے۔ انہوں نے افطاری کی، پھر اس رات انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی تو وتر بھی ادا کر لیے، پھر وہ مسجد تشریف لے گئے، وہاں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی نماز پڑھائی۔ پھر انہوں نے ایک شخص کو آگے کیا اور بولے: تم اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھا دو، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ» ایک ہی رات میں دو مرتبہ وتر ادا نہیں کیے جاتے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1101، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2449، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1678، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1439، والترمذي فى (جامعه) برقم: 470، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4921، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16546» «رقم طبعة با وزير 2440»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1293).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں