🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

966. باب النوافل - ذكر الإباحة لمن أدرك الجماعة ولم يصل ركعتي الفجر أن يصليها في عقب صلاة الغداة
نفل نمازوں کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ جو شخص جماعت پکڑ لے اور فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھ سکے، وہ صبح کی نماز کے بعد انہیں پڑھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلانِيُّ الْمِصْرِيُّ، بِطَرَسُوسَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ " أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سلم مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ" .
سیدنا قیس بن قہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں صبح کی نماز ادا کی، انہوں نے فجر کی دو رکعت سنتیں ادا نہیں کی تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سلام پھیرا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے دو رکعت سنتیں ادا کر لیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے ان پر انکار نہیں کیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1116، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1563، 2471، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1267، والترمذي فى (جامعه) برقم: 422، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1154، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1439، 1440، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24257، 24258، والحميدي فى (مسنده) برقم: 892» «رقم طبعة با وزير 2462»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1150).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات غير والد يحيى سعيد بن قيس، فلم يوثقه غير المؤلف 4/ 281، وترجم له البخاري في «التاريخ» 3/ 508، وابن أبي حاتم 4/ 55 - 56، فلم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلا، وقيس بن فهد: هو قيس بن عمرو.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں