🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1011. فصل في الصلاة على الدابة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به ابن وهب عن عمرو بن الحارث
جانور پر نماز پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف ابن وہب نے عمرو بن الحارث سے روایت کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2519
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْعَثًا، فَوَجَدْتُهُ يَسِيرُ مُشْرِقًا وَمُغْرِبًا، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَانْصَرَفْتُ فَنَادَانِي:" يَا جَابِرُ"، فَنَادَانِي النَّاسُ: يَا جَابِرُ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ، قَالَ:" ذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت مشرق کی طرف رخ کر کے یا مغرب کی طرف رخ کر کے چل رہے تھے (یعنی آپ سواری پر سوار تھے)؛ میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دستِ مبارک کے ذریعے اشارہ کیا، پھر میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے اپنے دستِ اقدس کے ذریعے اشارہ کیا۔ میں واپس آیا (تھوڑی دیر بعد) تو آپ نے مجھے بلایا: اے جابر! لوگوں نے بھی مجھے بلایا: اے جابر! میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ کو سلام کیا تھا لیکن آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت میں نماز ادا کر رہا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2519]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1217، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 540، وابن الجارود فى "المنتقى"، 252، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1270، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2516، 2518، 2519، 2523، 2524، 2525، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1188، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1227، والترمذي فى (جامعه) برقم: 351، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1018، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1479، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14373» «رقم طبعة با وزير 2510»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں