🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1036. فصل في التراويح - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن صلاة الناس التراويح في شهر رمضان ليست سنة
تراویح کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ رمضان میں لوگوں کی تراویح کی نماز سنت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2545
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَذَاكَرُونَ ذَلِكَ، فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَصَلَّوْا بِصَلاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، إِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات کے وقت مسجد تشریف لے گئے، کچھ لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی، اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی تو زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات بھی تشریف لے گئے، کچھ لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا، تو تیسری رات اہل مسجد کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، آپ نے انہیں نماز پڑھائی اور لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ چوتھی رات آئی تو مسجد مکمل بھر چکی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے یہاں تک کہ آپ فجر کی نماز کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ نے فجر کی نماز ادا کر لی، تو ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اور ارشاد فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ» ! گزشتہ رات تمہارا معاملہ مجھ سے مخفی نہیں تھا، لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ تم پر رات کے نوافل فرض کر دیے جائیں گے اور تم اس سے عاجز آ جاؤ گے (یعنی انہیں ادا نہ کر پاؤ گے)۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 924، 1129، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 761، الجارود فى "المنتقى"، 442، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1128، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 141، 2542، 2543، 2544، 2545، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1603، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1373، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4675، 4676، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25999» «رقم طبعة با وزير 2536»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں