صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1040. فصل في التراويح - ذكر الإباحة للقارئ في شهر رمضان أن يؤم بالنساء التراويح جماعة
تراویح کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ رمضان میں قاری عورتوں کو تراویح کی جماعت کی امامت کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2549
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ؟" قَالَ: نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ: إِنَّا لا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَنُصَلِّي بِصَلاتِكَ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرْتُ، قَالَ: فَكَانَ شِبْهُ الرِّضَا، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات رمضان کے حوالے سے مجھے کچھ مشکل پیش آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیا تھی؟ اے ابی!“ انہوں نے عرض کی: ہمارے گھر کی کچھ خواتین تھیں، انہوں نے یہ کہا: ہم قرآن نہیں پڑھ سکتیں، ہم آپ کی نماز کی پیروی کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائیں پھر میں نے وتر ادا کر لیے۔ (سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گویا رضا مندی کا اظہار فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2549]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2549، 2550، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1801، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3731» «رقم طبعة با وزير 2540»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «صلاة التراويح» (79 - 80).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف