صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1048. فصل في قيام الليل - ذكر الإخبار عما يستحب للمرء الاجتهاد في لزوم التهجد في سواد الليل والثبات عند إقامة كلمة الله العليا
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ رات کے اندھیرے میں تہجد کی پابندی کرے اور اللہ کی عظیم کلام کو قائم رکھنے میں ثابت قدم رہے
حدیث نمبر: 2557
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٍ ثَارَ مِنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى الصَّلاةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنَ حِبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي، وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَانْهَزَمَ النَّاسُ، وَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ فِي الانْهِزَامِ، وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ، فَرَجَعَ حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلائِكَتِهِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي، رَجَعَ رَجَاءً فِيمَا عِنْدِي، وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہمارا پروردگار دو بندوں پر خوش ہوتا ہے، ایک وہ شخص جو (رات کے وقت) اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو، یہ اپنے بستر اور لحاف میں سے، اپنی بیوی کے پاس سے اٹھ کر نماز کی طرف آیا ہے، اس چیز کی رغبت رکھتے ہوئے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے جو میرے پاس ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لیتا ہے، لوگ پسپا ہو جاتے ہیں وہ شخص بھی جانتا ہے، پسپا ہونے کی صورت میں اس پر کیا وبال ہو گا اور واپس آنے کی صورت میں اسے کیا اجر و ثواب ملے گا، تو وہ واپس (میدان جنگ میں) آ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو، یہ اس چیز کی امید رکھتے ہوئے واپس آیا ہے جو میرے پاس ہے اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے آیا ہے جو میرے پاس ہے، یہاں تک کہ اس کے خون کو بہا دیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2557، 2558، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2546، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2536، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18004، 18595، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4028» «رقم طبعة با وزير 2548»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي