صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1087. فصل في قيام الليل - ذكر الشيء الذي إذا قاله المرء عند الانتباه من رقدته قبلت صلاة ليله إذا أعقبه بها
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر آدمی نیند سے بیدار ہونے پر یہ کہے تو اس کی رات کی نماز قبول ہوتی ہے اگر وہ اس کے بعد اسے ادا کرے
حدیث نمبر: 2596
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، رَبِّ اغْفِرْ لِي، غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاتُهُ" ، قَالَ الْوَلِيدُ: قَالَ:" غُفِرَ لَهُ، أَوِ اسْتُجِيبَ لَهُ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص رات کے وقت بیدار ہو اور بیدار ہونے کے بعد یہ پڑھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہی اسی کے لیے مخصوص ہے، حمد اسی کے لیے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے) اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے، اگر وہ اٹھ کر وضو کرے اور نماز ادا کرے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔“ ولید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے، روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ”اس شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1154، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2596، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10631، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5060، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3414، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2729، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3878، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4742، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23113» «رقم طبعة با وزير 2587»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الترغيب» (608)، «تخريج الكلم» (42): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري