صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1117. فصل في قيام الليل - ذكر الإباحة للمتهجد بالليل أن يؤم بصلاته تلك
قیام الليل کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ رات کو تہجد کرنے والا اس نماز کی امامت کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 2626
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،، أَنَّهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، " فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ، وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثْتُ بِهَذَا بُكَيْرَ بْنَ الأَشَجِّ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي كُرَيْبٌ بِذَلِكَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی، اس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہاں موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، میں آپ کے بائیں طرف آ کر کھڑا ہوا، تو آپ نے مجھے پکڑا اور دائیں طرف کر دیا، اس رات آپ نے چار رکعات ادا کیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، جب آپ سوتے تھے، تو آپ خراٹے لیا کرتے تھے، پھر مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ تشریف لے گئے، آپ نے نماز پڑھائی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2626]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،وابن الجارود فى "المنتقى"، 10، 11، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، 2196، 2579، 2592، 2626، 2627، 2636، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، 5043، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، 476، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868» «رقم طبعة با وزير 2617»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق، ومضى (3583). تنبيه!! رقم (3583) = (3591) من «طبعة المؤسسة». لكن الحديث غير موجود بالرقم المشار إليه وإنما موجود برقم (2193) الموافق لـ (2196) من طبعة المؤسسة. وسيأتي أيضا برقم (2627) الموافق لـ (2636) من طبعة المؤسسة. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم