صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1150. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المتحري الصواب في صلاته إذا سها فيها عليه أن يسجد سجدتي السهو بعد السلام الأول
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں صحیح طریقے کی تحقیق کرتا ہو اور اس میں سہو ہو جائے، اسے سلام کے پہلے سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2660
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، وَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ حَدَثَ شَيْءٌ لَنَبَّأْتُكُمُوهُ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ إِلَى الصَّوَابِ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھاتے ہوئے کچھ اضافہ کر دیا یا کچھ کمی کر دی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دیتا، لیکن میں ایک انسان ہوں میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، تو تم میں سے جس کسی کو بھی اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ اس بات کا جائزہ لے، کونسی صورت درست ہونے کے زیادہ قریب ہے اور وہ اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے پھر وہ سلام پھیرے اور دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2650»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما