صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1152. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن المتحري في الصلاة عند شكه عليه أن يسجد سجدتي السهو بعد السلام
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص نماز میں شک کرے اور تحقیق کرے، اسے سلام کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرنے چاہئیں
حدیث نمبر: 2662
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: لا أَدْرِي أَزَادَ نَقَصَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ:" لا، وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَهُ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ:" إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، وَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ لْيُسَلِّمْ، ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" .
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نامی راوی بیان کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اضافہ کیا تھا یا کوئی کمی کی تھی جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ کیا ہوا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: آپ نے اس، اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ٹانگ کو بچھایا آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا دو مرتبہ سجدہ سہو کیا، پھر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتا دیتا، لیکن میں بھی تم لوگوں کی طرح ایک انسان ہوں میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو۔ تو جب میں بھول جاؤں، تو تم لوگ مجھے یاد کروا دیا کرو۔ جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو، تو وہ درست اندازہ لگانے کی کوشش کرے۔ اسی کی بنیاد پر نماز کو مکمل کرے پھر سلام پھیر کر دو مرتبہ سجدہ سہو کرے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 401، 404، 1226، 6671، 7249، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 572، وابن الجارود فى "المنتقى"، 270، 272، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1028، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2656، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2681، 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1019، والترمذي فى (جامعه) برقم: 392، 393، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1203، 1205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1408، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3636» «رقم طبعة با وزير 2652»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر (2646). تنبيه!! رقم (2646) = (2656) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين