صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1317. باب صلاة الكسوف - ذكر الأمر بالصلاة عند رؤية كسوف الشمس أو القمر
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ سورج یا چاند گرہن دیکھنے پر نماز پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 2834
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّيهَا، حَتَّى انْجَلَتْ، وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَادْعُوا حَتَّى يَكْشِفَ مَا بِكُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَادْعُوا": أَرَادَ بِهِ فَصَلُّوا، إِذِ الْعَرَبُ تُسَمِّي الصَّلاةَ دُعَاءً.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سورج گرہن ہو چکا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کیں، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر ہی رہے تھے کہ اسی دوران گرہن ختم ہو گیا۔ یہ گرہن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے موقع پر ہوا تھا، اس لیے کچھ لوگوں نے یہ کہا: ابراہیم کے انتقال کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو دعا مانگو یہاں تک کہ وہ گرہن ختم ہو جائے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم لوگ دعا مانگو“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ عرب بعض اوقات نماز کے لیے لفظِ دعا استعمال کر لیتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1040، 1048، 1062، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1374، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2833، 2834، 2835، 2837، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1458، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20717» «رقم طبعة با وزير 2823»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن مبارك بن فضالة مدلس وقد عنعن