صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1324. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن المصلي صلاة الكسوف التي ذكرناها له أن يقرأ في الركعة الثانية غير السورة التي قرأها في الركعة الأولى
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص ہمارے بیان کردہ صلاة الكسوف پڑھے، اسے دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے مختلف سورت پڑھنی چاہیے
حدیث نمبر: 2841
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَقَرَأَ بِسُورَةِ طَوِيلَةٍ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَافْتَتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهَا رَكَعَ ثَانِيَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَقَرَأَ أَيْضًا بِسُورَةٍ، وَقَامَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ دُونَ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، قَالَ: " مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلا وَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل سورت کی تلاوت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قیام جتنا طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور دوسری سورت کی تلاوت شروع کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ رکوع کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بھی ایک سورت کی تلاوت کی لیکن یہ پہلی والی قرأت سے کچھ کم تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رکوع پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا، تو یہ بات ارشاد فرمائی: ”تم لوگوں سے جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ہے وہ میں نے اپنی اس جگہ پر کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اور میں نے یہ چاہا، میں جنت کا ایک گچھا حاصل کروں، یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا، اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو نگل رہا ہے، یہ اس وقت ہوا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا، میں نے (جہنم میں) عمرو بن لحی کو بھی دیکھا، یہ وہ شخص تھا جس نے بتوں کے نام پر جانور دینے کا آغاز کیا تھا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2830»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1071): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين