🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1329. باب صلاة الكسوف - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فادعوا الله وكبروا وتصدقوا أراد به فصلوا إذ الصلاة تسمى دعاء
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "فادعوا الله وكبروا وتصدقوا" سے مراد نماز پڑھنا ہے کیونکہ نماز کو دعا کہا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2846
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلاةِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَكَبِّرُوا" ." يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أُمَّتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی طویل رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جانے کے لیے جھک گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا یہ پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے والے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے اور طویں رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور سجدہ کے لیے جھک گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) فرمایا۔ اے لوگو! بے شک سورج اور چانداللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو نماز ادا کرو، صدقہ و خیرات کرو (اوراللہ تعالیٰ کی) کبریائی کا اعتراف کرو۔ اے محمد کی امت! کسی کو بھی اتنا غصہ نہیں آتا جتنااللہ تعالیٰ کو اس بات پر آتا ہے، جب اس کا کوئی بندہ زنا کا ارتکاب کرے یا اس کی کوئی کنیز زنا کا ارتکاب کرے۔ اے محمد کی امت! اگر تم وہ بات جان لو جو میں جانتا ہوں، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، 2841، 2842، 2845، 2846، 2849، 2850، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، 1180، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، 563، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679» «رقم طبعة با وزير 2835»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں