صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1371. باب صلاة الخوف - ذكر الإباحة للمرء عند اشتداد الخوف أن يؤخر الصلاة إلى أن يفرغ من قتاله
خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ جب خوف شدت اختیار کر جائے تو آدمی اپنی نماز مؤخر کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی لڑائی سے فارغ ہو
حدیث نمبر: 2889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ، حَدَّثَنَا بِهِ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَغَيْرُهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ قَالَ:" وَاللَّهِ مَا صَلَّيْنَاهَا بَعْدُ"، قَالَ: فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی تک عصر کی نماز ادا نہیں کر سکا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ یہ اس کے بعد کی بات ہے جب روزہ دار افطاری کر لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! ہم بھی ابھی تک یہ نماز ادا نہیں کر سکے۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «بُطْحَانَ» کے مقام پر رکے اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہو جانے کے بعد اور اس کے بعد جب روزہ دار افطار کر لیتا ہے، عصر کی نماز ادا کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 596، 598، 641، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 631، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 995، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2889، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1365، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1291، والترمذي فى (جامعه) برقم: 180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3237، 3238، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 4790» «رقم طبعة با وزير 2878»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح