صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من لزوم الرضا بالقضاء
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ قضاء پر راضی رہے
حدیث نمبر: 2892
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ عُبَيْدٍ سَنُوطَا ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ، فَوَجَدَهُ حَارًّا، فَقَالَ:" حَسِّ"، وَقَالَ:" ابْنُ آدَمَ إِنَّ أَصَابَهُ بَرْدٌ قَالَ: حَسِّ، وَإِنَّ أَصَابَهُ حَرٌّ قَالَ: حَسِّ" . ثُمَّ تَذَاكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا بُورِكَ لَهُ فِيهَا، وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ نَفْسُهُ فِي مَالِ اللَّهِ وَمَالِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک اس میں رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ گرم محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کو سردی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)، اگر اسے گرمی لگتی ہے تو وہ یہ کہتا ہے: «حَسِّ» (یعنی ”اوئی“)۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ دنیا کا تذکرہ کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا سرسبز اور میٹھی ہے، جو شخص اس کے حق کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا، اس کے لیے اس میں برکت رکھی جائے گی اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ان کو قیامت کے دن جہنم ملے گی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3118، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2892، 4512، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2374، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27696، والحميدي فى (مسنده) برقم: 356» «رقم طبعة با وزير 2881»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (1592).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن