🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر الخبر الدال على أن على المرء التصبر عند كل محنة يمتحن بها وإن كانت تلك المحنة شيئا يسيرا
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی پر لازم ہے کہ ہر اس آزمائش میں صبر کرے جس سے وہ امتحان دیا جائے، چاہے وہ آزمائش معمولی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا، فَجَلَسَ مُغْضَبًا مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، فَقَالَ:" إِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لِيُسْأَلُ الْكَلِمَةَ فَمَا يُعْطِيهَا، فَيُوضَعُ عَلَيْهِ الْمِنْشَارِ، فَيَشُقُّ بِاثْنَيْنِ، مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُمْشَطُ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ، وَمَا يَصْرِفُهُ ذَاكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لا يَخَافُ إِلا اللَّهَ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ" .
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں چادر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمیں مشرکین کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ میں نے عرض کی: کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غضب کی حالت میں سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں سے کلمے کا مطالبہ کیا جاتا تھا، اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تھا تو آرے کو اس کے سر پر رکھ کر اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا تھا لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی، اور بعض اوقات کسی شخص پر (لوہے کی بنی ہوئی) کنگھی پھیری جاتی تھی جو اس کے گوشت اور پٹھوں میں سے گزر کر اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی لیکن یہ چیز بھی انہیں ان کے دین سے نہیں پھیر سکی۔ البتہ تم لوگ جلد بازی کا اظہار کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ضرور پورا کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے چل کر حضرموت تک جائے گا اور اسے صرف اللہ کا خوف ہو گا یا اپنی بکریوں کے حوالے سے بھیڑیے کا خوف ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الجَنَائِزِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا مُقَدَّمًا أَوْ مُؤَخَّرًا/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3612، 3852، 6943، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2897، 6698، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5335، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2649، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17793، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21442» «رقم طبعة با وزير 2886»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2380).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں